حضرت سلیمان علیہ السلام اور مچھیرے کی بیٹی: آزمائش اور عشقِ صادق کا مکمل قصہ

 حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار خلافتِ الٰہی کا وہ نمونہ تھا جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ ایک وسیع و عریض میدان میں سونے اور چاندی کے کرسیوں پر انسان اور جنات بیٹھے ہوتے، سروں پر پرندوں کا میلوں لمبا لشکر سائبان بن کر کھڑا ہوتا کہ دھوپ کا گزر نہ ہو سکے۔ صبا (ہوا) آپ کے تخت کے نیچے موجزن رہتی۔

ایک روز آپؑ نے ایک خاص مشاورتی اجلاس طلب کیا جس میں تمام چرند، پرند، جنات اور انسانوں کے سردار موجود تھے۔ آپؑ کے پہلو میں ایک قوی ہیکل جن، جس کی آنکھیں دہکتے انگاروں جیسی تھیں، بطور باڈی گارڈ کھڑا تھا۔ فضا پر ایک ہیبت طاری تھی۔ اچانک سلیمان علیہ السلام نے بلند و آہنگ آواز میں اعلان فرمایا:

"اے میری رعایا! میں نے ارادہ کیا ہے کہ اب اپنی زندگی میں ایک رفیقہ حیات شامل کروں۔ میرے لیے ایک ایسی لڑکی تلاش کی جائے جو میرے شایانِ شان ہو۔"

درباریوں نے سر تسلیم خم کیا اور عرض کی: "اے اللہ کے نبی! آپ زمین و زمان کے واحد بادشاہ ہیں، جن و انس آپ کے تابع ہیں۔ آپ کی ملکہ کوئی عام عورت نہیں ہو سکتی۔ آپ اپنی پسندیدہ صفات بیان فرمائیں تاکہ ہم دنیا کا کونہ کونہ چھان ماریں۔"


سلیمان علیہ السلام نے بڑی سنجیدگی سے چار شرائط بیان فرمائیں:


وہ نہایت پردہ نشین اور دیندار ہو (یعنی اس کا تقویٰ بے مثال ہو)۔


وہ امانت دار ہو (جس پر بھروسہ کیا جا سکے)۔


وہ عالی نسب اور اچھے خاندان سے ہو (جس کی تربیت اعلیٰ ہو)۔


وہ خوبصورت ہو (تاکہ وہ بادشاہِ وقت کی نظروں کو بھائے)۔


اگلے ہی لمحے شاہی منادی کرنے والے تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر مشرق و مغرب کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ہر شہر کے چوراہے پر ڈھول کی تھاپ پر یہ اعلان گونجنے لگا کہ "جو لڑکی ان صفات پر پوری اترے گی، اسے سلیمانؑ کی ملکہ بننے کا شرف حاصل ہوگا۔"

وہی سلیمانؑ جن کے ایک اشارے پر بادل برستے تھے، اب بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے تھے۔ وہی بوڑھا مچھیرا دریا پر آیا اور اس زخمی نوجوان کو دیکھ کر اسے اپنے گھر لے گیا۔ جب سلیمانؑ کو ہوش آیا، تو انہوں نے اپنی پہچان بتانا چاہی لیکن پھر رک گئے، کیونکہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا۔ انہوں نے سوچا: "جب تک اللہ معاف نہیں کرے گا، کوئی مجھے نہیں پہچانے گا۔"


مچھیرے نے کہا: "نوجوان! تم تندرست لگتے ہو، اگر مزدوری کرنا چاہو تو میرے ساتھ چلو۔ میں تمہیں مچھلیاں پکڑنے کے بدلے 200 درہم ماہانہ دوں گا۔"

سلیمان علیہ السلام نے سر جھکا لیا۔ وہ بادشاہ جو پوری دنیا کا مالک تھا، اب ایک غریب مچھیرے کا مزدور بن گیا۔ وہ سارا دن دھوپ میں جال پھینکتے اور شام کو مچھیرے کی جھونپڑی میں سو جاتے۔ ادھر ملک میں ظلم بڑھ گیا کیونکہ تخت پر شیطان بیٹھا تھا۔ سلیمانؑ روزانہ گریہ و زاری کرتے اور اللہ سے معافی مانگتے۔

جب سلیمانؑ کو ہوش آیا، تو انہوں نے سامنے اس بوڑھے مچھیرے کو دیکھا جس کی فریاد کو کبھی انہوں نے اپنی انا کے باعث رد کر دیا تھا۔ ان کے لب ہلے، وہ بتانا چاہتے تھے کہ: "اے بوڑھے! میں وہی سلیمان ہوں جس کے دربار سے تو ناامید لوٹا تھا"—لیکن اچانک ان کے دل میں ایک ٹیس اٹھی۔ انہوں نے سوچا:

"جب میرے رب نے مجھ سے میری سلطنت چھین لی، میری انگوٹھی چھین لی اور میری پہچان مٹا دی، تو میں بندوں کے سامنے اپنا تعارف کیوں کراؤں؟ جب تک میرا اللہ مجھے معاف نہیں کرے گا، کائنات کا کوئی ذرہ مجھے نہیں پہچانے گا۔ یہ میری بادشاہت نہیں، میری بندگی کا امتحان ہے۔"

انہوں نے اپنی زبان روک لی اور ایک عام مسافر کی طرح نظریں جھکا لیں۔

بوڑھے مچھیرے کو اس اجنبی نوجوان کی صورت میں ایک مددگار نظر آیا۔ اس نے ہمدردی سے کہا:

"اے نوجوان! تم تنو مند لگتے ہو، اگر تم آوارہ گردی کے بجائے حلال رزق کمانا چاہو تو میرے ساتھ چلو۔ میں بوڑھا ہو چکا ہوں، جال مجھ سے سنبھالا نہیں جاتا۔ اگر تم میرے ساتھ مزدوری کرو گے، تو میں تمہیں 200 درہم ماہانہ دوں گا اور سر چھپانے کو جگہ بھی۔"

سلیمان علیہ السلام، جن کے خزانے زمین کے اندر اور باہر لدے ہوئے تھے، انہوں نے خاموشی سے سر جھکا کر اس مزدوری کو قبول کر لیا۔ وہ بادشاہ جو تختِ رواں پر ہواؤں کے دوش پر سفر کرتا تھا، اب سارا دن کڑی دھوپ میں کھڑے ہو کر بوجھل جال سمندر میں پھینکتا۔ ان کے ہاتھوں میں، جو کبھی ریشم چھوتے تھے، اب رسوں کے نشان پڑ گئے تھے۔ شام کو وہ مچھیرے کی جھونپڑی کے ایک کچے کونے میں سو جاتے، جہاں مچھلیوں کی بساند اور غربت کا ڈیرہ تھا۔

ادھر یروشلم کے تخت پر وہ شیطان (آصف بن برخیا کی شکل میں یا بعض روایات کے مطابق صخر نامی جن) بیٹھا تھا جس نے دھوکے سے انگوٹھی حاصل کر لی تھی۔ ملک میں عدل اٹھ گیا تھا، پرندوں نے سلیمانؑ کے بغیر سامیہ کرنا چھوڑ دیا تھا اور رعایا ظلم کی چکی میں پس رہی تھی۔

سلیمانؑ رات کی تنہائی میں اٹھتے، مچھیرے کی جھونپڑی سے باہر نکل کر ستاروں بھرے آسمان تلے سجدے میں گر جاتے۔ ان کی سسکیاں سمندر کی لہروں میں جذب ہو جاتیں۔ وہ رو رو کر عرض کرتے:

"یا اللہ! سلیمان کو تیری بادشاہت نہیں، تیری رضا چاہیے۔ میں نے اپنی اوقات بھول کر اپنی بیٹی کا رشتہ مانگنے والے فقیر کو جھڑکا تھا، آج میں خود اس کا نوکر بن کر اپنی انا کو تیرے قدموں میں قربان کرتا ہوں۔ مجھے معاف کر دے!"

وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور ایک مکمل سال بیت گیا۔ سلیمان علیہ السلام، جو کبھی تختِ شاہی پر بیٹھ کر دنیا کے فیصلے کرتے تھے، اب اس بوڑھے مچھیرے کے سائے میں ایک عام مزدور کی زندگی گزار رہے تھے۔ مچھیرے نے ان بارہ مہینوں میں اس نوجوان کو بہت قریب سے دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ یہ نوجوان مچھلیاں پکڑتے ہوئے بھی تسبیح پڑھتا ہے، جب جال خالی نکلتا ہے تو شکوہ کرنے کے بجائے سجدہ شکر بجا لاتا ہے، اور اس کی نظروں میں ایسی حیا ہے کہ اس نے کبھی گھر کی دیواروں کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔

ایک شام، جب سورج سمندر کی لہروں میں روپوش ہو رہا تھا، مچھیرا اپنی بیوی کے پاس بیٹھا اور سنجیدگی سے بولا:

"اے نیک بخت! میں نے اس نوجوان جیسا ہیرا اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا۔ یہ غریب ضرور ہے، اس کے پاس رہنے کو مکان نہیں اور پہننے کو قیمتی لباس نہیں، لیکن اس کا کردار کسی بادشاہ سے کم نہیں ہے۔ میرا دل کہتا ہے کہ ہمیں اپنی بیٹی عفیفہ کا نکاح اس سے کر دینا چاہیے۔ وہ شہزادیوں جیسی پاک دامن ہے، اور یہ نوجوان اس کے لیے بہترین جیون ساتھی ثابت ہوگا۔"

جب عفیفہ تک یہ بات پہنچی، تو اس کے دل پر ایک بوجھ سا آ گیا۔ وہ تنہائی میں مصلے پر بیٹھ کر خوب روئی۔ اس نے تو خواب دیکھا تھا کہ وہ وقت کے سب سے بڑے نبی اور بادشاہ سلیمانؑ کی شریکِ حیات بنے گی، اس نے تو دربارِ سلیمانی میں خط بھیجا تھا تاکہ وہ ایک عظیم مقصد کا حصہ بن سکے۔ اس نے سوچا:

"اے میرے پروردگار! کیا میری دعائیں رائیگاں گئیں؟ کیا ایک بادشاہ کا خواب دیکھنے والی اب ایک مزدور کے گھر بسے گی؟"

لیکن پھر اسے اپنے رب کی قدرت یاد آئی۔ اسے یاد آیا کہ اللہ کی مصلحتیں بندے کی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہیں۔ اس نے اپنی آنکھیں پونچھیں اور سوچا: "اگر میرے رب کی یہی رضا ہے کہ میں ایک غریب مگر نیک انسان کے ساتھ زندگی گزاروں، تو مجھے سرِ تسلیمِ خم کر دینا چاہیے۔" اسے کیا معلوم تھا کہ اللہ نے اس کی دعا اس انوکھے انداز میں قبول کی ہے کہ جس بادشاہ کا اس نے خواب دیکھا تھا، وہ خود چل کر ایک سائل بن کر اس کی دہلیز پر آ چکا ہے۔

بستی کے چند لوگوں کی موجودگی میں سادہ سا نکاح پڑھایا گیا۔ سلیمان علیہ السلام، جو کبھی سونے کے تخت پر بیٹھتے تھے، آج ایک چھوٹی سی کٹیا میں عفیفہ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔ عفیفہ نے جب اپنے شوہر کے چہرے پر وہ نور دیکھا جو عام انسانوں کے چہرے پر نہیں ہوتا، تو اس کا دل گواہی دینے لگا کہ یہ کوئی معمولی انسان نہیں ہے۔ سلیمانؑ بھی خاموش تھے، وہ جانتے تھے کہ یہ وہی لڑکی ہے جس کے باپ کو انہوں نے دھتکارا تھا، اور آج وہ اسی کے احسان تلے دبے ہوئے تھے۔

نکاح کی اگلی ہی صبح، معمول کے مطابق سلیمانؑ اپنی چادر کندھے پر ڈالے مچھلیاں پکڑنے دریا پر چلے گئے۔ ادھر دور یروشلم کے محل میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ وہ شیطان جن، جو سلیمانؑ کا روپ دھارے تخت پر بیٹھا تھا، بالکونی میں کھڑا اپنی انگلی میں اس جادوئی انگوٹھی کو گھما رہا تھا جس کے بل بوتے پر اس نے ساری سلطنت پر قبضہ کر رکھا تھا۔

اچانک قدرت نے پلٹا کھایا۔ شیطان کے ہاتھ میں لرزش پیدا ہوئی اور وہ انگوٹھی اس کی انگلی سے پھسل کر سیدھی نیچے بہتے ہوئے گہرے دریا میں جا گری۔ انگوٹھی کے پانی میں گرتے ہی شیطان کا جادوئی طلسم ٹوٹ گیا، اس کا چہرہ مسخ ہو گیا اور وہ چیختا ہوا وہاں سے بھاگ نکلا۔ درباری اور سپاہی حیران رہ گئے کہ یہ کیا ماجرا ہے۔

دریا کی گہرائی میں ایک بڑی مچھلی تیر رہی تھی۔ جیسے ہی انگوٹھی پانی میں گری، اس مچھلی نے اسے کوئی خوراک سمجھ کر نگل لیا۔ وہ انگوٹھی مچھلی کے پیٹ میں محفوظ ہو گئی۔

وہی مچھلی، جس کے پیٹ میں پوری دنیا کی بادشاہت کا راز چھپا تھا، تیرتے ہوئے اس جگہ پہنچی جہاں سلیمان علیہ السلام اپنا جال ڈالے بیٹھے تھے۔ سلیمانؑ نے جیسے ہی جال کھینچا، انہیں محسوس ہوا کہ آج جال غیر معمولی طور پر بھاری ہے۔ جب انہوں نے جال باہر نکالا، تو اس میں وہی بڑی مچھلی تڑپ رہی تھی۔

سلیمانؑ نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:

"اے میرے رب! آج تو نے میرے رزق میں برکت دی ہے۔"



دریا کی گہرائی میں ایک بڑی مچھلی تیر رہی تھی۔ جیسے ہی انگوٹھی پانی میں گری، اس مچھلی نے اسے کوئی خوراک سمجھ کر نگل لیا۔ وہ انگوٹھی مچھلی کے پیٹ میں محفوظ ہو گئی۔

وہی مچھلی، جس کے پیٹ میں پوری دنیا کی بادشاہت کا راز چھپا تھا، تیرتے ہوئے اس جگہ پہنچی جہاں سلیمان علیہ السلام اپنا جال ڈالے بیٹھے تھے۔ سلیمانؑ نے جیسے ہی جال کھینچا، انہیں محسوس ہوا کہ آج جال غیر معمولی طور پر بھاری ہے۔ جب انہوں نے جال باہر نکالا، تو اس میں وہی بڑی مچھلی تڑپ رہی تھی۔

سلیمانؑ نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:

"اے میرے رب! آج تو نے میرے رزق میں برکت دی ہے۔"

سلیمان علیہ السلام وہ بڑی مچھلی کندھے پر رکھ کر اپنی کٹیا میں پہنچے۔ آج ان کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے کسی مسافر کو اپنی منزل کی خوشبو آ رہی ہو۔ انہوں نے مچھلی اپنی شریکِ حیات عفیفہ کے سامنے رکھی اور مسکرا کر کہا:

"اے نیک بخت! آج قدرت نے ہمیں بہت بڑا رزق عطا کیا ہے۔ اسے تیار کرو، آج ہم مل کر اللہ کا شکر ادا کریں گے۔"


عفیفہ نے چھری اٹھائی اور جیسے ہی مچھلی کا پیٹ چاک کیا، اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ مچھلی کے اندر سے ایک ایسی انگوٹھی نکلی جس کی چمک نے پوری جھونپڑی کو منور کر دیا۔ وہ انگوٹھی عام دھات کی نہیں تھی، بلکہ اس سے نور کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں۔


عفیفہ خوشی سے جھومتی ہوئی اپنے شوہر کے پاس دوڑی آئی اور کہنے لگی:

"اے میرے سرتاج! دیکھو تو سہی! اللہ نے ہماری غریبی پر کیسی نظرِ کرم فرمائی ہے۔ یہ مچھلی تو اپنے پیٹ میں خزانہ چھپائے بیٹھی تھی۔ لگتا ہے اللہ نے ہمیں ہماری شادی کا یہ خوبصورت اور قیمتی تحفہ بھیجا ہے۔"

سلیمان علیہ السلام نے خاموشی سے وہ انگوٹھی تھامی۔ عفیفہ نے بڑی محبت اور عقیدت سے وہ انگوٹھی سلیمانؑ کی انگلی میں پہنا دی۔ جیسے ہی انگوٹھی ان کے ہاتھ میں آئی، کائنات کا ذرہ ذرہ پکار اٹھا!


اچانک آسمان پر ایک زوردار کڑک ہوئی، ہواؤں نے اپنا رخ بدل لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ جھونپڑی کے اوپر منڈلانے لگے۔ وہ پرندے جو ایک سال سے سلیمانؑ کو ڈھونڈ رہے تھے، اب دوبارہ ان کے سر پر پروں کا سایہ کرنے لگے۔ سلیمانؑ کا لباس بدل گیا، ان کے چہرے پر وہی جاہ و جلال اور نبوت کا نور واپس آ گیا جس کے سامنے جن و انس سر جھکاتے تھے۔


بوڑھا مچھیرا اور اس کی بیوی یہ منظر دیکھ کر دہشت اور حیرت سے سجدے میں گر گئے۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ کوئی عام انسان نہیں بلکہ وقت کا وہ عظیم بادشاہ ہے جس کی ہیبت سے پہاڑ لرزتے ہیں۔

سلیمان علیہ السلام نے اپنی اہلیہ عفیفہ کا ہاتھ تھاما، جن کی آنکھوں میں آنسوؤں اور حیرت کا سمندر تھا۔ انہوں نے نہایت نرمی سے پوچھا:

"اے عفیفہ! سچ سچ بتاؤ، کیا تم نے کبھی کسی سے سچی محبت کی تھی؟ کیا تمہارے دل میں کبھی کسی کا خیال آیا تھا؟"


عفیفہ نے حیا سے اپنی پلکیں جھکا لیں، اس کی آواز میں لرزش تھی مگر لہجے میں سچائی:

"اے میرے سرتاج! میں نے بن دیکھے اپنے وقت کے نبی اور بادشاہ سلیمانؑ سے محبت کی تھی۔ میں نے ان کے عدل اور تقویٰ کے قصے سن کر اللہ سے ایک عجیب دعا مانگی تھی۔ میں نے کہا تھا: 'یا اللہ! یا تو مجھے اتنا امیر بنا دے کہ میں سلیمانؑ کے محل تک پہنچ سکوں، یا پھر سلیمانؑ کو میرے جتنا غریب بنا کر میری جھونپڑی تک لے آ تاکہ وہ میرا ہو جائے۔'"

یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا:
"اے اللہ کی بندی! تیری اس سچی دعا اور بے مثال توکل نے آسمان کے دروازے ہلا دیے تھے۔ اللہ کو تیری عاجزی اتنی پسند آئی کہ اس نے اپنے ایک نبی کو تخت سے اٹھا کر تیرے گھر کا مزدور بنا دیا۔ ایک سال تک میں نے تیرے باپ کی بکریاں چرائیں اور مچھلیاں پکڑیں تاکہ تجھے تیری دعا کا جواب مل سکے۔ اے عفیفہ! میں ہی وہ سلیمان ہوں جس کا تم نے خواب دیکھا تھا۔"
اگلے ہی لمحے، سلیمان علیہ السلام اپنی ملکہ عفیفہ کو لے کر شاہی تخت کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ بوڑھا مچھیرا، جو کبھی دربار سے خالی ہاتھ لوٹا تھا، اب بادشاہ کا معزز سسر بن کر محل میں داخل ہوا۔ عفیفہ، جس نے ایک کچے مصلے پر بیٹھ کر دعا مانگی تھی، اب دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت کی ملکہ تھی۔
یہ داستان ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اگر نیت صاف ہو اور اللہ پر یقین کامل ہو، تو وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے۔ لیکن یاد رہے، کبر و غرور ایک نبی کے لیے بھی آزمائش بن سکتا ہے، تو ہم انسان کس باغ کی مولی ہیں؟


Newest
Previous
Next Post »

Pages