اریخِ اسلام کے وہ پنے جو شاید آپ نے پہلے کبھی نہ سنے ہوں! ایک ایسی وادی جہاں پرندے پر مارنے سے ڈرتے تھے، جہاں کی ہواؤں میں پچھلے ایک ہزار سال سے دہشت کا راج تھا۔ وہ جگہ جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور کے سرکش اور خونی جنات نے بسیرا کر رکھا تھا۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک ایسا کنواں جہاں سے پانی نکالنے کی قیمت صرف 'موت' تھی؟ آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ کو لے کر چلیں گے اس معرکے کی طرف جہاں اکیلے شیرِ خدا، علی ابن ابی طالبؑ نے 20,000 جنات کے لشکر کو خاک میں ملا دیا۔ یہ کہانی ہے ایمان کی، یہ کہانی ہے ذوالفقار کی، اور یہ کہانی ہے حق کی باطل پر فتح کی!"
نبی کریم ﷺ اپنے جاں نثار صحابہ کے ساتھ ایک کٹھن جنگ سے واپس لوٹ رہے تھے۔ سفر طویل تھا، پیاس سے حلق خشک ہو رہے تھے کہ قافلہ ایک وادی میں پہنچا جسے 'وادیِ ارجا' کہا جاتا تھا۔ حضور ﷺ نے پوچھا: 'اے میرے صحابہ! یہ کون سی جگہ ہے؟' ایک صحابی نے لرزتی آواز میں عرض کیا: 'یا رسول اللہ! یہ وہ منحوس جگہ ہے جہاں انسان قدم رکھنے سے کتراتا ہے۔ یہاں ایک کنواں ہے، مگر اس پر ان جنات کا قبضہ ہے جو حضرت سلیمانؑ کے دور میں بغاوت کر کے یہاں چھپ گئے تھے۔ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ رہتی دنیا تک اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے۔'"
"پیاس کی شدت بڑھی تو پیارے نبی ﷺ نے حکم دیا کہ کنویں سے پانی لایا جائے۔ کچھ صحابہ آگے بڑھے، لیکن جیسے ہی وہ کنویں کے قریب پہنچے، زمین لرزنے لگی۔ کنویں کے اندر سے ایک ایسا ہیولا نکلا جس کی آنکھیں دہکتے انگاروں جیسی تھیں اور قد آسمان کو چھوتا تھا۔ صحابہ پیچھے ہٹ گئے، مگر حضرت ابوالعاصؓ کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ انہوں نے فرمایا: 'میرے نبی کا حکم میری جان سے بڑھ کر ہے!' لیکن اس ظالم جن نے ایک ہی وار میں انہیں شہید کر دیا۔ جب صحابہ نے اپنے بھائی کا تڑپتا ہوا جسم دیکھا تو کہرام مچ گیا۔"
"جب یہ خبر خیمہِ نبوی تک پہنچی تو فضا سوگوار ہو گئی۔ حضور ﷺ نے ایک اور گروہ بھیجنا چاہا، مگر اسی لمحے آسمان سے حضرت جبرائیلؑ تشریف لائے۔ 'یا رسول اللہ! اللہ کا سلام ہو، ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اب یہاں کسی اور کو نہ بھیجیں، کیونکہ ان جنات کا توڑ صرف علی ابن ابی طالبؑ ہیں۔' حضور ﷺ نے پکارا: 'اے علی! کہاں ہو؟' مولا علیؑ حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے علی! اس وادی کے فتنے کو ختم کرو۔ پہلے انہیں حق کی دعوت دینا، اگر نہ مانیں تو انہیں علاقہ چھوڑنے کا کہنا، اور اگر وہ ظلم پر اڑے رہیں... تو پھر تمہاری ذوالفقار فیصلہ کرے گی۔'"
"حضرت علیؑ کنویں پر پہنچے۔ وہ خونی جن پھر نکلا اور قہقہہ لگا کر بولا: 'اے انسان! کیا تجھے اپنی جان پیاری نہیں؟' مولا علیؑ نے گرج کر فرمایا: 'بدبخت! میں موت سے نہیں ڈرتا، میں اللہ کا شیر علی ہوں! میں تجھے دعوت دیتا ہوں کہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جا۔' جن نے تکبر سے انکار کیا اور حملہ آور ہوا۔ پھر دنیا نے وہ منظر دیکھا کہ مولا علیؑ نے ذوالفقار نکالی، فضا میں 'یا اللہ' کی صدا گونجی اور ایک ہی وار میں اس جن کے دو ٹکڑے کر دیے۔"
"ایک جن کے مرتے ہی ہزاروں جنات باہر نکل آئے۔ آپؑ نے قرآن کی آیات تلاوت کیں تو ان کے جسم جلنے لگے۔ پھر آپؑ نے رسی اپنی کمر سے باندھی اور خود کنویں کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر گئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کنویں کے اندر اندھیرے میں مولا علیؑ نے اکیلے 20,000 سرکش جنات کا مقابلہ کیا۔ ایک ایک کر کے سر قلم ہوتے گئے، یہاں تک کہ جنات کی چیخوں سے وادی گونج اٹھی۔ جب کوئی راستہ نہ بچا تو بچ جانے والے جنات نے ہتھیار ڈال دیے اور پاؤں میں گر کر معافی مانگی۔"
"سب جنات مسلمان ہو گئے۔ ان کے سردار 'قوگان' کو آپؑ نے 'جعفر' کا نام دیا اور انہیں دین کی تعلیمات پر چلنے کا حکم دیا۔ مولا علیؑ کنویں سے پانی نکال کر لائے، پورے لشکر نے پانی پیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کے سامنے اسے جھکنا ہی پڑتا ہے۔"
"دوستو! اگر شیرِ خدا کی یہ شجاعت آپ کے دل کو چھو گئی ہو، تو کمنٹ میں 'سبحان اللہ' لکھیں اور اس ویڈیو کو صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئر کریں۔"
ConversionConversion EmoticonEmoticon